نوجوان شاعرہ سحر نورین سحر صاحبہ کا خصوصی انٹرویو

فیسبک بہت سے رشتوں کو جنم دیتا ہے۔ آپ کے مختلف قسم کے لوگوں سے رابطے ہوتے ہیں میرا بھی اسی طرح سے اک نوجوان شاعرہ سے رابطہ ہوا اور اب میرے لیے وہ بڑی بہن کی حیثیت سے ہیں میری مراد سحر نورین سحر سے ہے ۔ آج آپ کے لیے انھیں کا انٹرویو پیش خدمت ہے ۔

سوال: اپنا مختصر سا تعارف کروائیں ؟
سحر نورین سحر: نام سحر نورین
ادبی نام سحر نورین سحر
شہر فیصل آباد
مصروفیت ہاؤس وائف
عمر 27۔

سوال: شاعری کا شوق کب سے پیدا ہوا ؟
سحر نورین سحر: شاعری کا شوق بچپن سے تھا جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتا گیا۔

سوال: شاعری میں کس صنف کو آپ دل کے قریب یا آسان سمجھتی ہیں ؟
سحر نورین سحر: شاعری میں غزل کو میں اپنے دل کے بہت زیادہ قریب سمجھتی ہوں ۔

سوال: آپکا کا کلام کس مشہور کتاب، رسائل اور اخبار میں چھپ چکا ہے؟
سحر نورین سحر: روزنامہ یادیں ادبی دنیا میں اور مختلف اخبارات میں میرا کلام چھپتا رہتا ہے۔

سوال: لکھاریوں میں کس شاعر اور ادیب کو پسند کرتی ہیں ؟
سحر نورین سحر: امجد اسلام امجد صاحب اور انور مقصود صاحب کو پسند کرتی ہوں۔ امجد اسلام امجد صاحب کی یہ نظم تو بہت پسند ہے محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا۔

سوال: آپ نے منیر نیازی صاحب اور احمد ندیم قاسمی صاحب کو پڑھا اور سنا دونوں میں آپکو کیا بنیادی فرق محسوس ہوا ؟
سحر نورین سحر: دونوں اپنی جگہ بہترین شاعر ہیں۔

سوال: دور حاضر کے کونسے شاعر اور ادیب آپکو متاثر کر رہیں ہیں ؟
سحر نورین سحر: عبدالرزاق شاد صاحب تلہ گنگ ضلع چکوال سے اور کراچی سے راجہ عادل داد صاحب دونوں میرے بہت پسندیدہ شاعر بھی ہیں اور مجھ ان دونوں سے رہنمائی بھی حاصل رہتی ہے۔ سادہ الفاظ میں راجہ عادل داد صاحب اور عبدالرزاق شاد صاحب دونوں میرے استاد ہیں۔

سوال: نوجوان نسل فیسبک پر شاعری کر رہی ہے آپ کو لگتا ہے کے وہ مستقبل میں شاعری کو سمبھال سکتے ہیں ؟
سحر نورین سحر: جی بلکل ۔۔۔ میں دیکھتی رہتی ہوں اور باقاعدہ انٹرنیٹ پہ طرحی مشاعروں کا انقعاد کیا جاتا ہے جس میں بہت بڑی تعداد میں ہم نوجوان شاعر حصّہ لیتے ہیں اور بڑے شاعر بھی حصہ لیتے ہیں یہ شوق اور جذبہ دیکھ کر میں کہہ سکتی ہوں کہ ہاں نو جوان بہت بڑا کردار ادا کریں گے اور کر رہے ہیں۔

سوال: آپ کی شاعری میں پڑھنے والوں کے لیے کیا پیغام ہے ؟
سحر نورین سحر: دیکھیے جی غزل کے ہر شعر کا الگ الگ مفہوم ہوتا ہے ۔۔۔ مختلف قسم کے پیغامات ہوتے ہیں اور ظاہر ہے امن و امان پیار محبّت اور دل پہ گزارنے والی آہ و زاریاں بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ہم شاعر دوسروں سے سیکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔

سوال: آپکو شاعری کرنے میں کبھی مشکل پیش آئی ؟
سحر نورین سحر: مجھے عروض کا علم نہیں تھا تو میں اسے بہت مشکل سمجھتی تھی لکین یہ بہت ضروری تھا اور میں نے دن رات ایک کر کے اسے سمجھا اور مختلف شاعروں نے رہنمائی بھی کی اور آج الحمدللہ کافی حد تک عبور حاصل کر چکی ہوں اور ابھی کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے تو اب با آسانی سمجھ سکتی ہوں۔

سوال: آپ نے اویس سکندر کو فیسبک پر پڑھا آپ کو کوئی خوبی یا خامی نظر آئی ؟
سحر نورین سحر: اویس سکندر صاحب کو فیس بک پر پڑھا ہے ماشاءاللہ بہت اچھا لکھتے ہیں بہترین تخیل اور نفاست بھرے الفاظ کے چناؤ سے امید ظاہر ہوتی ہے مستقبل میں اپنا ایک بہترین مقام بنائیں گے۔

سوال: آپ اگر شاعرہ نہ ہوتیں تو کیا ہوتیں ؟
سحر نورین سحر: اگر میں شاعرہ نہ ہوتی تو بھی میں ہاؤس وائف ہوتی جو کہ میں ہوں۔

سوال: نوجوان شعراء کو کیا پیغام دینا چاہتی ہیں ؟
سحر نورین سحر: نو جوان شاعروں کیلئے میرا پیغام ہے کہ عروض کا علم ضرور سیکھیں
نا کہ بے وزن شاعری کر کے اپنا وقت ضائع کریں ۔۔۔

آخر میں اپنی پسندیدہ غزل پیش کریں ؟
سحر نورین سحر:
خواب آنکھوں میں بھر گیا ہے وہ
زندگی خاک کر گیا ہے وہ

اس کی یادوں میں کھوئی رہتی ہوں
مجھ کو پاگل ہی کر گیا ہے وہ

آئینہ بن کے سامنے جو رہا
حد سے دیکھو گزر گیا ہے وہ

ٹوٹے وعدوں کی کرچیاں ساری
ہاتھ پر میرے دھر گیا ہے وہ

اس کے لہجے میں رمز تھی کوئی
بات کچھ گہری کر گیا ہے وہ

میری آنکھوں میں رتجگے جو ہیں
دے کے مُجھ کو ہُنر گیا ہے وہ

اس کو بھولوں بھلا سحرٌ کیسے
سانسوں میں جو اُتر گیا ہے وہ

اپنا تبصرہ بھیجیں