مرزا ناصر محمود بیگ صاحب کی ایمان افروز تحریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

امت مسلمہ کے مسائل اور ان کا حل سیر ت النبی ﷺکی روشنی میں

اگر آج سے سوسال پیچھے کے دور پر ہم نظر ڈالیں تو امت مسلمہ پر مکمل طور پرنو آبادیاتی نظام کے سایے چھا چکے تھے اور تقریباتمام مسلم خطے غیر مسلم قوتوں کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے۔ آج ۵۷آزاد اسلامی ممالک دفاعی قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالامال ہیں مگر اس کے باوجود امت مسلمہ ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہوئی ہے جہاں سوسال قبل تھی ۔سقوط بیت المقدس اور پھر کابل اور بغداد پر دشمنان اسلام کی یلغار مسلمانوں کے لئے تازیا نہ ہیں ۔کہیں کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں کی عزتیں تارتار ہیں تو کہیں برما اور شام میں نہتے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ گرائے جاتے ہیں ۔اب آئیں ہم ان اسباب کا جائزہ لیں جو اس اذیت ناک صورت حال کا باعث بنے اورپھر اس راستے کی نشاندہی کی جائے جو اندھیروں کی ان تاریک گلیوں سے روشنی کی طرف لے کر جاتا ہے ہماری بات صرف قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کے اقوال اور سیرت طیبہ کی روشنی میں ہوگی کیونکہ بمطابق روایت حضرت عائشہ نبی کریم ﷺکا اخلاق وکردار دیکھنا ہوتو قرآن کا مطالعہ کرلو(مسلم:۱)۔ آپ ﷺ نے خود وحی الہٰی سے رہنمائی لی اور قیامت تک اپنی امت کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیے گئے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔’’یقیناتمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں عمدہ نمونہ موجودہے ‘‘ (احزاب 21)
امت مسلمہ کے ان مسائل کے اسباب ومحرکات کو سمجھنے کے لئے درج ذیل حقائق کو جاننا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کی سنت مطہرہ ہے کہ جب کسی قوم میں احکام الٰہی کی مخالفت، رسول اکرم ﷺ کے طریقوں سے انحراف اور گناہوں کی کثرت عام ہو جائے تو ذلت ورسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔غزوہ احد میں اللہ کے نبی ﷺ بنفس نفیس موجود ہیں مگر اس کے باوجود جیتی ہوئی جنگ شکست میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ہوایہ کہ نبی کریم ﷺ کے ایک حکم کی مخالفت ہوئی۔احد پہاڑ کے عقب میں ایک گھاٹی پرمامور کچھ تیر انداز وں کوآپ ﷺ نے یہ تاکید فرمائی تھی کہ اس گھاٹی کوتم نے ہر گز نہیں چھوڑنا ۔جنگ کے آغاز میں جب انہوں مسلمانوں کا پلہ بھاری دیکھا تو ان میں سے اکثر وہ گھاٹی چھو ڑ کر میدان جنگ میں کو د پڑے تا کہ کچھ مال غنیمت ان کے ہا تھ لگ جائے جوں ہی انہوں نے گھاٹی کو چھوڑ ا کفا ر کی طرف سے خالد بن ولید نے اچانک پیچھے سے حملہ کر کے مسلمانوں کی جیتی ہوئی بازی کو شکست میں تبدیل کر دیا۔مسلمان حیران تھے کہ یہ سب کیسے ہو گیاپھر اللہ نے یہ آیت نازل کی اور یا د دلایا: ’’ اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچاکر دکھایا جبکہ تم اس کے حکم سے انہیں کاٹ رہے تھے یہاں تک کہ جب تم نے پست ہمتی اختیار کی اور کام میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی ،اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی ۔تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے اور بعض کا ارادہ آخرت کا تھا اور پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے اور یقیناًاس نے تمہاری لغزش سے درگزر فرمایا اور ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے ‘‘(آل عمران:۱۵۲)۔اللہ کریم کی اسی سنت کوایک اور مقام پرکچھ یوں بیان کیا گیا :’’تمیں جو کچھ مصیبت آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کے کر توت کا بدلہ ہے اور وہ بہت سی باتوں سے درگزر فرمادیتاہے (الشورٰی:۳۰)۔
امت مسلمہ کی زبوں حالی کا نقشہ تو رسول اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں کھینچ دیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب تمام قومیں اکٹھی ہو کر تم پر ٹوٹ پڑیں گی تمہاری تعداد تو بہت ہو گی مگر تمہاری حیثیت تنکوں سے زیادہ نہیں ہو گی۔تمہارا رعب تمہارے دشمن کے دلوں سے ختم ہو جائے گا اور تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو کر موت(شہادت) سے نفر ت کرنے لگو گے ۔(ابوداود)
آج اکیسویں صدی میں جب کہ دنیا کے سبھی ممالک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں مسلم امہ کے ممالک مسلسل بحرانوں کا شکار ہیں اور پستی و ذلت کی بڑھتے جار ہے ہیں حالانکہ ایک وقت تھا جب مسلمان تعلیمی ، سائنسی ، اقتصادی ، تہذیبی ، دفاعی الغرض ہر شعبہ زندگی میں تمام اقوام عالم سے آگے تھے اور ان کی لائبریریاں اور تجربہ گا ہیں علم و فن کا مرکز ہوا کرتی تھیں۔ان کی قوت و شوکت کایہ عالم تھا کہ دنیا کی تمام قومیں ان کے آگے سرنگوں ہوتی تھیں۔مگرآج امت کی حالت اقبالؒ کے بقول کچھ یوں ہے……
.تم کو اپنے آباء سے نسبت ہو نہیں سکتی
تم گفتار وہ کردار،تم ثابت وہ سیارہ
حالیہ دور میں امت مسلمہ کو درپیش مسائل کی فہرست تو بہت طویل ہے مگر ان میں سے چند ایک کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
(۱) معاشی و اقتصادی غلامی
مسلم ممالک اللہ کے فضل سے افرادی قوت ، معدنی دولت اور زرعی و سائل سے مالا مال ہیں چنانچہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ پٹرولیم خلیجی ممالک میں پایا جاتا ہے ۔ ربڑ ملیشیاء میں ، فاسفیٹ مراکش میں، روئی مصر میں کھجور عراق میں ، ٹن ملیشیا ء میں پیدا ہوتی ہے ۔ چاول کی پیداوار میں تیسرا نمبر مصر کا اور پوری دنیا کی 12فی صد قدرتی گیس قطر میں پائی جاتی ہے اور 84فی صد سے زیادہ پٹرول مسلم ممالک سے نکلتا ہے۔ قدرت کی جانب سے ملے وسائل و ذخائر رکھنے کے باوجود مسلم ممالک ابھی تک دیگر ممالک سے بہت پیچھے ہیں حتیٰ کہ ان کو اپنے دفاع کے لئے اسلحہ اور ہتھیاربھی دوسرے ممالک سے خریدنے پڑتے ہیں ۔عالمی بینک اور ٓئی ایم ایف جیسے اداروں نے مسلم ممالک کو اقتصادی طور پر اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ کئی ممالک کو سودی قرضوں کے جال میں جکڑ رکھا ہے توکچھ بلادِ اسلامیہ اقتصادی پابندیوں کا شکار ہیں ۔
(۲) اسلام کے خلاف میڈیا وار
میڈیا اور ذرائع ابلاغ موجودہ دور کی بہت بڑی طاقت بن چکاہے، اس معاملے میں بھی مسلم امہ بہت پیچھے ہے اسی وجہ سے مستشرقین اور الحادی میڈیا اسلام اور مسلمانوں کو آئے دن نشانہ بناتے ہیں۔ دہشت گردی ، تشدد پسندی اورد قیانو سیت کالیبل لگا کر اسلام کی شناخت کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی قرآن کی بے حرمتی اور کبھی پیغمبر اسلام ﷺکی ذات پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آج یہودی قوم اپنی کم تعداد کے باوجود صر ف میڈیا اور اقتصادی طاقت کے بل بوتے پر پوری دنیا پر حکومت کر رہی ہے۔ مسلم امت کا کوئی مشترکہ میڈیا نیٹ ورک نہیں جوان ہرزہ سرائیوں کا کم از کم علمی اور اصلاحی انداز میں جواب ہی دے سکے ۔
(۳) سیاسی و سماجی عدم استحکام
سیاسی اور سماجی لحاظ سے بھی مسلم امہ کے تقریباََ تمام ممالک عدم استحکام کا شکار ہیں کہیں بدامنی، بغاوت اور خانہ جنگیوں کا سلسلہ ہے تو کہیں جمہوریت اور آمریت کی کشمکش ۔ مصر ، افغانستان ، لبنان ، شام ، لیبیا ، پاکستا ن اور عراق جیسے ممالک طویل عرصہ سے غیر معمولی حالات سے دو چار ہیں۔ مسلم ممالک کے عوام نا انصافی ،ظلم وجبر اور بد عنوانی کی وجہ سے اپنے حکمرانوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہوئے اور اس طرح امت مسلمہ کے اکثر ممالک کو سیاسی و سماجی طورپر استحکام نصیب نہیں ہو سکا ۔
(۴)دنیاوی ذلت ورسوائی
اکیسویں صدی کے اسی دور میں مسلم ممالک کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں ۔اتحاد امت کا پلیٹ فارم ہونا تو درکنار مسلم ممالک آپس میں ہی بر سر پیکار نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عالمی طاغوتی قوتیں ان کو مسلسل اپنے نشانہ پر رکھے ہوئے ہیں ۔پہلے عراق کو حدف بنایا گیا تو پھر افغانستا ن میں خون کی ہولی کھیلی گئی اور اب شام کی صورت حال نہ گفتہ بہ ہے آج مسلم ممالک اس ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ آئے دن فلسطین اور کشمیرمیں نہتے عوام پر گولیاں چلائی جاتی ہیں مسجد اقصیٰ میں بحالت نماز مسلمانوں کو شہید کیا جاتا ہے اور پھر علی الاعلان پروشلم (القدس ) کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کی بات کی جاتی ہے مگر مسلم حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔
(۵) فرقہ واریت اور شدت پسندی
ماضی میں عراق اور ایران کے درمیان جنگ سے لے کر موجود ہ دور میں یمن اورشام کی کشیدہ صورت حال کے تانے بانے فرقہ وارانہ اختلافات سے جڑے ہیں اسی تفرقہ بازی کا فائدہ اٹھا کر عالمی قوتیں تقسیم کرو اور حکومت کرو کے فارمولا پرعمل پیرا ہیں۔تکفیری اورخارجی عناصر کی کارروائیاں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ یہ مسلم امہ کے لئے ایک گھمبیر اور نازک مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے کسی موثر پلیٹ فارم کی ضرورت ہے ۔

اگرچہ امت مسلمہ کے مسائل کی فہر ست تو بہت طویل ہے مگر اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اب ان مسائل کو سلجھانے کی بات کرتے ہیں۔ اسلام اللہ کے نزدیک بہترین دین ہے جونہ صرف انفرادی زندگی کو سنوارنے کا سامان مہیا کرتا ہے بلکہ اجتماعی زندگی کے مسائل کا بھی حل پیش کرتا ہے اور قیامت تک آنے والے تمام مصائب و آلام سے نجات محمدعربیﷺ کی غلامی میں ہے ۔اسی لئے اقبال ؒ نے فرمایا تھا :
کی محمد ﷺسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لو ح قلم تیرے ہیں
اگر ہم اپنے پیارے پیغمبر جناب محمد ﷺ کی حیات طیبہ کے مکی اور مدنی ادوار کا بغور مطالعہ کریں تو آپ ﷺ کی زندگی بھی مختلف مشکلات اور بحرانوں سے گھری ہوئی نظر آتی ہے مگر آپ ﷺ ان چیلنجز سے جس طرح نبر د آزما ہوئے یہ موجودہ حالات کے تناظر میں امت کے لئے ایک روشن راستہ ہے جس پر چل کر آج بھی یہ امت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتی ہے۔ سیر تِ طیبہ کے چند روشن پہلو پیش خدمت ہیں جن کوہم بحیثیت امت مشعلِ راہ بنا کران مسائل کو حل کرسکتے ہیں ۔
(۱) نبی ﷺ بحیثیت معلم انسانیت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے‘‘۔اگر ہم آپ ﷺ کی سیر ت طیبہ کا مطالعہ کریں تو آپﷺنے پانچ بنیادی اقدار کی تعلیم دی ۔1)اخلاص : دل کی پاکیزگی اور مثبت ،تعمیری سوچ۔2)صدق:انسان کا قول وفعل میں سچاہونا ۔3)امانت :معاملاتِ زندگی میں دیانت داری ۔4)ایثار:قربانی دینے جذبہ ۔5)شکر :اپنے رب اور دوسرے انسانوں کا شکر گزار ہونا ۔اسلامی معاشروں کے زوال کا کا ایک سبب ان اخلاقی اقدارکی پامالی بھی ہے اقوامِ عالم نے ہمارے نبی ﷺ کی انہی تعلیمات پر عمل کرکے عروج حاصل کیا ۔
(۲) نبی ﷺبحیثیت ماہرِ معاشیات :
نبی کریم ﷺ کی ہجرت مدینہ سے قبل یہی وہ یثرب تھا جس کی معیشیت پر یہود چھائے ہوئے تھے ۔رسول اللہ ﷺ کی پالیسیوںں کی برکت سے یہود کی معیشیت رفتہ رفتہ کمزور ہوتی چل گئی حتیٰ کہ وہ یہاں سے نکال دیے گئے رسول اکرم ﷺکی ان پالیسیوں کا مختصر جائزہ ملا حظہ فرمائیں جن کو اپنا کر امت محمد یہ ﷺ آج بھی معاشی مسائل حل کرسکتی ہے ۔ 1)مہاجرین اور انصار کے مابین بھائی چارہ قائم کرکے آپﷺ نے رنگ ،نسل اور وطن کی قید سے آزادمعاشی نظام کی راہ دکھائی ۔ 2)۲ہجری میں زکوۃٰاور صدقات کا نظام قائم کیااور دولت صرف امیروں تک محدود نہ رہی بلکہ غریبوں اور مساکین وغیرہ میں تقسیم ہونے لگی ۔ 3)اس دوران آپ ﷺ نے مسلمانوں کو صداقت ،امانت ودیانت کے اسباق کے ساتھ کاروبار کے وہ گر سکھائے جس میں کسی کی حق تلفی نہ ہو ۔
(۳) نبی ﷺ بحیثیت حکمران
تاجدارمدینہ ﷺ نے اپنے دور حکمرانی میں چند اصول و ضوابط وضع کئے جن پرعمل کرکے ہمارے حکمران آج بھی امت مسلمہ کے زخموں پر مرہم رکھ سکتے ہیں ۔۱)آپ ﷺنے فرمایا ۔میری امت کے کسی بھی معاملے کا جونگران ہے اگر عوام پر وہ سختی کرے تو اے اللہ تو بھی اس پر سختی کر اور اگر وہ عوام پر نرمی کرے تو اللہ تو بھی اس پر نرمی فرما۔‘‘(بخاری:۲۸۰۴)۔۔ (۲) غزوہ احزاب کے موقع پر اپنے ہاتھوں نے خندق کھود آپ ﷺ نے اربابِ اختیار کو سبق دیا کہ مشکلات میں اسباب کو اختیا رکرنا ،حکمت عملی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنا اورحو صلہ بلند رکھنا شیوہ پیغمبری ہے ۔۳) آپ ﷺ نے اپنے دور حکومت کے آغاز میں ہی سفارتی ادارہ کو منظم کی اور روم و فارس جیسی عظیم سپرپا ورز کے بادشاہوں تک اسلا م کا پیغام پہنچا یا جو کہ آج مسلم ممالک کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔(سیرت النبیﷺ:شبلی:ج؛۱)
(۴) نبی ﷺ بحیثیت داعی و مبلغ
اللہ کریم ﷺنے اپنے محبوب ﷺ سے فرمایا :(اے نبی ﷺ)اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور ان سے بحث کرواس طریقہ سے جو بہترین ہو ۔(النمل :۱۲۵)اورپھر جس خوبصورت انداز میں آپ ﷺنے دین حق کی دعوت اقوام عالم کے سامنے رکھی اس کو اپنا کر آج بھی داعیانِ اسلام اپنے دین کا بہتر تشخص دنیا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں ۔اس کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیں۔
(ا) نبی رحمت ﷺ نے منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی جو کہ یقینی منافق تھا اس کے خلاف بھی کوئی سخت اقدام گوارا نہ کیاحتیٰ کہ اس کا جنازہ بھی آپ ﷺ نے خود پڑھایا (بخاری:۳۵۱۸)۔ایک طرف نبی کریم ﷺ کا اتنا لچک داررویہ اور دوسری طرف ہمارے نام نہاد خطباء اور واعظین کے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف کفر کے فتوے ۔۔۔یقینایہ سوچنے کا مقام ہے ۔ (۲) ایک مرتبہ ایک انصاری اور مہاجر کے درمیان جھگڑا ہو گیا تو انہوں نے اپنے اپنے ساتھیوں کو اکھٹا کرنا چاہا تو اس بات پر رسول اکرم ﷺ نے فوراََ ان الفاظ میں سرزنش کی: ’’جاہلیت کے زمانے کے یہ تعصبات چھوڑ دو، یہ بہت ناپاک ہیں ‘‘(بخاری:۳۵۱۸)۔یہ ہے وہ کردار جس کو اداکرکے ہمارے علماء،خطباء،قلمکار اور صحافی حضرات نفرت اور شدت پسندی کی آگ کو بجھا سکتے ہیں ۔(۳) نجران سے آیا عیسائی مشنری کا ایک وفد مسجد نبوی میں ٹھہرتا ہے اور پیغمبرِ اسلام ﷺ ان کو مسجد کی حدود میں ہی اپنے مذہبی طریقے سے عبادت کی اجازت دیتے ہیں (السیرۃ الحلبہ جلد:۲،ص:۲۳۵)۔ رسول کریم ﷺ کے اس اسوہ حسنہ کو اپنا کر ممبر ومحراب کے مکین دنیا میں اسلام کے امن پسند تشخص کو بحال کرسکتے ہیں اس حکمت عملی کی کامیابی کی تازہ مثال حالیہ دنوں میں یورپی یونین کی عدالت کا وہ فیصلہ ہے جس میں اس نے پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کو قابل سزا جرم قرار دیا ہے اور یہ پر امن علمی احتجاج کا ہی ثمر ہے (جرار :۲نومبر)
(۵) نبی ﷺبحیثیت رہبر ورہنما
اعلان نبوت سے پہلے حجرا سود کی تنصیب پر مکہ کے مختلف قبائل کے درمیان کشمکش اور تصادم کی فضاپیدا ہوگئی۔ ایسے نازک وقت میں رسول اللہ ﷺ نے ایک سیاسی قائدبن کردانشمندانہ فیصلہ کیا اور ایک چادر میں حجراسودر کھ کر تمام قبائل کے سرداروں سے وہ چادر اٹھوائی اور ااس طرح وہ بحران ٹل گیا ۔اب زخموں سے چور اور ٹکڑوں میں بٹی امت کے سیاسی اورمذہبی قائدین کواس حسنی کردار کو اپنا نے کی ضرورت ہے جس کے بارے نبی کریم ﷺنے فرمایا تھا : ’’میرابیٹا (حسن بن علیؑ )سردارہے اور اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دوجماعتوں میں صلح کروائے گا ‘‘ (بخاری :۳۶۲۹)۔آج امت مسلمہ مارواورمرجاؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ان حالات میں امت کو ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے ۔
(۶) نبیﷺ بحیثیت سپہ سالار
ایک جنگی معرکے میں اسامہ بن زید نے ایک ایسے شخص کو قتل کردیا جس نے آخری وقت میں کلمہ پڑھ لیا تھا۔ اس پر آپ ﷺ غصے میں آگئے اور فرمایا:کیا تم نے اس کا دل چیرکر دیکھ لیا تھا کہ اس نے اخلاص سے کلمہ پڑھا تھا یا اپنی جان بچانے کے لئے پڑھا تھا(بخاری :۴۰۱۹)۔ایک طرف پیارے آقا ﷺکی کلمہ گو مسلمان کے بارے اتنی احتیاط اوردوسری طرف ہم آج کے مسلمان کسی قدر دلیر ہوگئے ہیں کہ بہت جلد مسلمانوں کواسلام سے خارج کرکے تہہ تیغ کر نے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ،ہمیں ان رویوں کو بدلنا ہوگا ۔ حضورﷺجب بھی کسی کمانڈر کو جنگ پر روانہ فرماتے تو بچوں،عورتوں،بوڑھوں،مزدوروں اور راہبوں کو قتل کرنے سے منع کرتے ‘‘(مسلم،ابن ماجہ:کتاب الجھاد)۔آپ ﷺکی حیات طیبہ میں ہونے والی ۸۲ جنگی مہمات میں سے چند ایک میں ہی دوبدو قتال کی نوبت آئی باقی بغیر لڑائی کے ہی جیت لی گئیں کیونکہ آپﷺ کا جہادی مشن زمین کی بجائے دلوں کو فتح کرنا تھا۔اسی جنگی حکمت عملی کو اپنا کر ہی ہم آج دشمن کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔
اب اس بحث کواس بات پر سمیٹتے ہیں کہ جب مدینہ منورہ کے یہود یوں نے یہ دعوٰی کیا کہ ہم اللہ کی محبوب امت ہیں، ہم اللہ کے زیا دہ قریب ہیں تو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: ’’اے محبوب ﷺ ان سے فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کا دعوٰی کرتے ہو تو میری (یعنی محمدرسول اللہ ﷺکی) مکمل پیروی کر و ،اس سے تم اللہ کی محبت کے حقدار بن جاؤ گے اور وہ تمہارے سابقہ گناہ بھی معاف کر دے گااوروہ بہت بخشنے والا مہربان ہے‘‘۔(آل عمران:۳۱) یقیناًیہ قرآنی نسخہ آج ذلت ورسوائی میں گھری اس امت کے لئے بھی کارگر ثابت ہو سکتا ہے ۔آج امتِ مسلمہ جن مسائل سے دو چار ہے ان کے حل کے لئے سرور کونین ﷺکی سیرت مبارکہ کے علمی،اخلاقی،ابلاغی، معاشی،سیاسی اور عسکری پہلو ؤں سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے وگرنہ اسلامی انقلاب کی تمام ترکوششیں مجلسوں،احتجاجوں،ریلیوں،کانفرنسوں اور تحریروں تک ہی محدود رہیں گی اورآنے والا ہر نیا سال اس امت کو زوال کی طرف ہانک رہاہو گا۔۔۔ والسلام

اپنا تبصرہ بھیجیں