پڑھئے خوبصورت لب و لہجے کے شاعر جناب شبیر نازش صاحب کا خصوصی انٹرویو

قارئین آپ کے لیے حاضر ہے خوبصورت لب و لہجے کے مالک شاعر جناب شبیر نازش صاحب کا خوبصورت انٹرویو ۔۔۔۔

1۔بچپن میں آپ کا مزاج کیسا ہوا کرتا تھا؟
جواب:زندگی کے37ویں زینے سے پلٹ کے دیکھتا ہوں تو ایک دھندلکا سا دکھائی دیتا ہے،بچپن کے فریم میں میری تصویر واضح نہیں، جیسے کوئی ہو کر بھی نہ ہو۔ اپنے آپ میں گم، کھویا کھویا سا۔

2-زمانہ طالب علمی میں کس درجے کے طالب علم تھے؟
جواب:اللہ کے فضل سے لائق طالب علموں میں شمار رہا۔

3-ادبی زندگی کا آغاز کب اور کیسے کیا؟
جواب:ادبی زندگی کا آغاز1992 میں ہُوا اور یوں ہُوا کہ میرا چچازاد بھائی ڈائری بنایا کرتا تھا جس میں وہ شعراء کے اشعار لکھا اور بیل بوٹے بنایا کرتا تھا۔ مجھے بھی شوق ہوا اشعار جمع کرنے اور ڈائری بنانے کا، سومیں نے ہوم ورک والی کاپی سے آدھے آدھے بچے ہوئے کاغذ کاٹ کے چھوٹی سی ڈائری بنائی اور اشعار جمع کرنے شروع کردیے۔ ایک دوپہر دوسروں کے اشعار لکھتے لکھتے خیال آیا کہ یہ اشعار جو میں جمع کر رہا ہوں یہ بھی تو میرے جیسے انسانوں نے ہی لکھے ہیں نا، وہ لکھ سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں لکھ سکتا، میں بھی لکھوں گا۔ سو یہ “کیوں” نقطۂ آغاز بنا عرفانِ ذات کا، خداداد وصف کو پہچاننے کا۔

4-پہلا شعر کب کہا،کچھ یاد ہے کہ کیا تھا؟
جواب:جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ میں نے 1992 میں شعر کہنا شروع کیا، پہلا شعر کیا تھا اب یاد نہیں۔

5-نثرنگاری کی طرف کبھی متوجہ ہوئے یا نہیں؟
جواب:چاہا تو بہت کہ نثر لکھوں مگر طبیعت کبھی مائل نہ ہو سکی تاہم مسقبل میں نثر کی طرف آنے کا ارادہ ہے،دیکھیے کیا ہوتا ہے۔

6-شاعری میں نثری نظم کی آپ کی نظر میں کیا اہمیت ہے،کیا اسے شاعری کا حصہ ہونا چاہیے؟
جواب:شاعری میں غزل اور نظم دو ایسی اصناف ہیں جو ہر دور میں بارور رہی ہیں، ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ کبھی غزل کا جادو سرچڑھ کے بولتا رہا اور کبھی نظم نے رنگ جمایا۔ تاہم ہردو اصناف میں مختلف تجربات ہوتے رہے۔غزل نے تو ہیئت کے اعتبار سے کسی کی نہیں چلنے دی، البتہ نظم نے خاصی لچک دکھائی اور ہوتے ہوتے آزاد نظم تک جا پہنچی،جسے آخرکار چاروناچار قبول کر لیا گیا۔ نثری نظم بھی ایک تجربہ ہے جو ابھی قبول و رد کے درمیان میں ہے۔ میری نظر میں نثری نظم ایک اچھا اور جاندار تجربہ ہے جو خود کو منوا لے گا۔ آپ کے دوسرے سوال کے حوالے سے یہ کہوں گا کہ نثری نظم شاعری ہی ہے۔ شاعری صرف الفاظ کو بحر میں کر دینے کا نام نہیں، شاعری تو چیزِ دیگر ہے۔

7-آپ کے نزدیک شاعری ایک خداداد صلاحیت ہے یا ہر شخص محنت سے اس کے گرسیکھ سکتا ہے؟
جواب:بے شک شاعری خداداد صلاحیت ہے، جہاں تک گُر سیکھنے کا تعلق ہے گُر تو کوئی بھی سیکھ سکتا ہے مگر شاعری ہر کوئی نہیں کرسکتا۔ شاعری اور چیز ہے فن اور چیز۔ فن سیکھا جا سکتا ہے شاعری نہیں۔

8-شاعری میں عشق و محبت کو کس حد تک لازم خیال کرتے ہیں؟
جواب:شاعری جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتی ہے اور جذبات و احساسات کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ عشق و محبت دل میں سوز و گداز پیدا کرتے ہیں سو انسان کے لیے ازحد ضروری ہیں۔

9-کیا شاعری مخصوص اوقات کی پابند ہوتی ہے اور خاص وقت میں اشعار کی آمد ہوتی ہے؟ آپ اس بارے میں کیا فرمائیں گے؟
جواب:نہیں ایسا نہیں ہے۔آمد کا تعلق مخصوص اوقات کے ساتھ مشروط نہیں، آمد کسی وقت بھی ہو سکتی ہے، طبیعت کسی وقت بھی مائل و موزوں ہو سکتی ہے۔

10-شاعری کے علاوہ اور کیا مشاغل ہیں؟
جواب:شاعری کے علاوہ جو مشاغل ہیں وہ بھی کسی نہ کسی طرح شاعری ہی سے جڑے ہوئے ہیں۔ جیسے کتابیں پڑھنا،موسیقی سننا،فلم دیکھنا یا شعری نشستوں میں جانا اس کے ساتھ ساتھ گھومنے پھرنے کا بھی شوق ہے۔

11-اچھی شاعری کی کیا تعریف کرتے ہیں؟
جواب:آج سے دس برس پیشتر مجھ سے ایک انٹرویو میں پوچھا گیا تھا کہ آپ کی نظر میں اچھے شعر کی تعریف کیا ہے تو میں نے کہا تھا کہ اچھا شعر وہ ہے جس میں زندگی چلتی پھرتی، سانس لیتی نظرآئے سو آج بھی میرا نقطۂ نظر یہی ہے۔
12-کیا آپ کو اپنی شاعری یاد رہتی ہے؟
جواب:پہلے عشق کی طرح شاعری بھی پہلے یاد رہتی تھی مگر جب سے موبائل آیا ہے حافظہ ویسا نہیں رہا۔
13-موجودہ دور کے لحاظ سے آپ شاعری کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں؟
جواب:تخلیق کار کا منصب نہیں کہ وہ ناامید ہو جائے، سو میں ناامید نہیں۔ جب تک انسان کا وجود موجود ہے شاعری کا حال اور مستقبل روشن رہیں گے۔
14-آخر میں کوئی غزل پیش کریں؟
جواب:
اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کر
وہ لے گیا ہے جسم سے سانسیں نکال کر

لوٹے تو یہ نہ سوچےکہ خط جھوٹ موٹ تھے
مَیں رکھ چلا ہُوں بام پر آنکھیں نکال کر

میرے کفن کے بند نہ باندھو! ابھی مجھے
مِلنا ہے ایک شخص سے بانہیں نکال کر

کیا ظرف ہے درخت کا،حیرت کی بات ہے
مِلتا ہے پھر خزاں سے جو شاخیں نکال کر

تُو ہی بتا! کہ آنکھ کے شمشان گھاٹ میں
کیسے بسا لوں مَیں تجھے لاشیں نکال کر

ہر شخص اپنے قد کے برابر دکھائی دے
سوچیں جو درمیان سے ذاتیں نکال کر

چاہو تو کر لو شوق سے تم بھی حسابِ وصل
اِک پل بچے گا ہجر کی راتیں نکال کر
شبیر نازش

اپنا تبصرہ بھیجیں