صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی کی تحریر درد فقر من کی دولت

درد۔۔فقر۔۔ من کی دولت

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

انسان خالق کی سب سے بہترین تخلیق ہے۔ خالق نے انسان کو عقلِ سلیم سے نوازا ہے۔ انسان کو خالق نے اپنا نائب ہونے کا شرف بخشاہے۔فرشتے اُس مقام تک نہ پہنچنے پائے جو مخلوق کو اُس کے خالق نے عطا فرمادیا۔ انسان کو درد کی دولت تب ہی میسر آتی ہے جب اُس کے اندر خود ی پیدا ہوجاتی ہے۔ انسان زمانے کا بندہ بننے کی بجائے اپنے رب کا بندہ بن جاتا ہے۔ انسان اپنے من میں ڈوب کر زندگی کی حقیقت پا جاتا ہے۔ من کی زندگی انسان کو وہ رفعتیں عطا کرتی ہے کہ اُسے درد کی دولت مل جاتی ہے۔ درد کی دولت جھوٹ کا پردہ چاک کر دیتی ہے۔ زندگی کی حقیقتوں سے آشنا کرجاتی ہے۔ کہنہ، بغض ، لالچ سے رہائی انسان کو زندگی کا سراغ دیتی ہے۔
درد کی دولت ایسی نعمت ہے کہ دُنیا کے بادشاہ اِس سے محروم اور فقیر اِس سے مالا مال ہوتے ہیں دُنیا حاصل کرکے بادشاہ بن جانا اور بات ہے اور دنیا میں رہ کر اپنے رب کی رضا اور بات ہے۔ بہار کی آمد کے ساتھ ہی پھولوں کی مسکراہٹ ہر جاء مہکتی نظر آتی ہے وہ پودے جنہوں نے پھولوں کو جنم دیا ہوتا ہے وہ اپنی خوش بختی پہ نازاں دیکھائی دیتے ہیں کہ اُن کے وجود کے حصے سے چمن کو نئی زندگی کا احساس میسر آیا ہے۔اِسی طرح بہا ر پہ جب خزاں حاوی ہو جاتی ہے تو ہ پودے، پھول مسکرانا بھول جاتے ہیں۔ درختوں کی شاخوں کی رنگت سبز نہیں رہتی بلکہ پیلی ہو جاتی ہے اور پتے اور اُس کی شاخیں اپنا وجود کھونا شروع کردیتے ہیں۔حالانکہ درختوں کو، پودوں کو ،پھولوں کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ اِس خزاں رُت نے بھی آخر جانا ہے اور تازگی سے بھرپور بہار نے آنا ہے لیکن کچھ پودے، پھول اتنا انتظار نہیں کر پاتے شاید اُن کی جبلت میں یہ بات رکھ دی ہوتی ہے کہ اب اُن کا جانا ٹھر گیا ہے اور جو موسم کی سختیوں اور خزاں کے سوکھے پن کا مقابلہ کرنے کی سعی رکھتے ہیں اُن کے اندر پھر سے تازگی کی روح پھونک دی جاتی ہے۔ خالق نے تو ہر ہر شے ہر ہر مخلوق کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ یہ ہی حال ایک عام انسان اور صوفی کا ہوتا ہے صوفی ہر حال میں اپنے رب کی رحمتوں پر شاکر رہتا ہے اور ہر سختی کو اُسکی رضا گردانتا ہے جبکہ عام انسان کو اونچ نیچ کے سبب جو سختیاں راستے میں آتی ہیں اُن سختیوں کو وہ پہاڑ بنا لیتا ہے۔وفا کی قندیل شب غم کو روشنی دیتی ہے محبتوں کی خیرات نہیں آگہی دیتی ہے جو راہِ عشق سے بھٹک گیااُسے کیا خبر زوال کیا ہے وفا کے پھول کی پتیوں نے خود کو ہر حال میں خوشبو کے لیے قائم رکھنا ہوتا ہے بکھرتے وقت بھی پتیوں نے خوشبو کا بھرم رکھنا ہوتا ہے صوفی کے لیے اپنے وجود کو قائم رکھنا اہم نہیں ہوتااُس کے لیے تو اہم اپنے رب کی رضا ہے۔۔ حادثے ہوتے رہے ہیں دن ڈھلتے رہے ہیں چند ساعتوں کی آہ سانس ٹوٹنے کی صداگلاب پھولوں پہ زرد رنگ کا سایہ حادثے ہوتے رہے ہیں دن ڈھلتے رہے ہیںآنکھوں میں بسے خواب دل کے سمندر میں خواہشوں کی موج روح کا مسکن، تڑپ ہی تڑپ حادثے ہوتے رہے ہیں دن ڈھلتے رہے ہیں کہانی وہی پُرانی آس نہ ٹوٹنے والی محفلوں پہ چھائی مرگ سے خامشی نرم و نازک احساسات کا جنم بے ربط جذبوں کی روانی۔ مسافر کا سفرِ نا تمام تمام ہوا ہے نئے سفر نئے مسافر راہیں وہی پرانی تقدیر سے سمجھوتے کی کہانی نئے کہکشاں منتظر نئے مہمان نئے میزبان۔اسلام کا قلعہ۔اور اِس میں بسنے والوں کی حالت۔ حلال و حرام کی تمیز ختم۔ہوس کی دوڑ ایسی کہ رُکنے کا نام نہیں لے پا رہی۔جو کچھ بالائی طبقہ کرتا ہے وہ کچھ پھر معاشرئے کا نچلا طبقہ کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ گویا حکمرانوں کی نقالی عوام اپنے اوپر فرض کر لیتی ہے
۔زنا شراب جوا عروج پر ۔ بدیانتی اتنی کہ جس جس کی جو ذمہ داری ہے و ہ اُسے پورا نہیں کر رہا۔حتی کے گدھے کا گوشت کتے کا گوشت تک کھلایا جارہا ہے۔ جب رشوت عام ہوگی سفارش کے بغیر کوئی کام نہیں ہوگا تو پھر حالات نے تو ایسے ہی ہونا ہے کہ ہر شعبے میں لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔بوڑھوں کے لیے اولڈہوم کھل گئے ہیں۔ طلاقوں کی شرح اتنی زیادہ کے خدا کی پناہ۔اِس لیے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں ۔ اِس لیے بچے یتم ہوئے اِس لیے عصمتیں لُٹیں۔نبی پاکﷺ کے حکم پر بننے والے اسلام کے قلعے کا حلیہ ایسا بنا دیا گیا ہے کہ ہر طرف شر ہی شر۔دیانت شرافت، ایمان غائب۔ قتل وغارت عروج پر۔گلی محلے میں پھرنے والے آوارہ کتے جن کا کام صرف بھونکنا ہی ہوتا ہے لیکن وہ بھی اُس شخص کا خیال رکھتے ہیں جواُن کو پیار سے چمکارتا ہے جو کچھ کھانے کے لیے کبھی کبھار پھینک دیتا ہیہمارئے ملک میں سیاستدان سارئے نہیں شائد کچھ ایسے نہ بھی ہوں لیکن اکثر الیکشن کے بعد عوام کو شود رسمجھتے ہیں اور فرعون کے نصب پر فائز ہو جاتے ہیں۔غربت میں اپنوں کے بھی مزاج بدل جاتے ہیں رشتے تو وہی ہوتے ہیں مگر رواج بدل جاتے ہیں شب ، شب ظلمت کا روپ دھار لیتی ہے سحر بے نور ہوجاتی ہے وفاء کے کھیل میں جب دولت آجائے تو پھر وفا اور جفا کے انداز بدل جاتے ہیں عشق کے رستے پہ چلنا دشوار لگتا ہے دوستی کے معیار بدل جاتے ہیں دولت کا جادو اتنا سر چڑھ کے بولتا ہے۔جفا کے اندھیروں میں وفا کے دیپ جلانا ہے خاکستر ہونا اور پھرخود کو مٹانا ہے روح کی تازگی کھوئی ہے مدتوں سے چارہ گر کو یہ دکھ بتانا ہے آوارگی نے جو مزاج بدلا ہے اُسے راہِ سخن پہ لانا ہے شنوائی کا امتحان بڑا صبر آزماء ہے خود بھی رونا اور اُسے بھی رُلانا ہے ۔در سے آشنائی کچھ پا کر نہیں کچھ کھو کر ہوتی ہے۔ جسے ہم کھونا سمجھتے ہیں وہ پانا ہوتا ہے جسے پا کر ہم نہال ہورہے ہوتے ہیں وہی تو سب کچھ کھونا ہوتا ہے۔درد لالچ، بے سکونی،کی موت اور بے نیازی کی دولت کا نام ہے کہ بندہ بھی اپنے خالق کے طرح بے نیاز ہو جاتا ہے۔وہ مادیت سے دور اور روحانیت سے قریب ہو جاتا ہے۔انسانی مزاج بھی بہت حد تک متنوع ہے۔ اِس میں جہاں شگفتگی کی انتہاء دیکھائی دیتی ہے۔قربانی اور اخلاص کا عظیم پہاڑ بن جاتا ہے۔ اپنے خون کا ایک ایک قطرہ محبت و آگاہی کے در پہ نچوڑ کے رکھ دیتا ہے اور زندگی کی ہر رفعت کو محبوب کی عظمت کے سامنے ہیچ گردانتا ہے۔لیکن جب اِسی مزاج کے برہم ہونے کی باری آتی ہے تو سارئے تصوراتی محل زمین بوس ہوجاتے ہیں اور زندگی جہنم سے بھی بدتر محسوس ہوتی ہے۔انسانی جبلت میں خالق نے یہ شے رکھ چھوڑی ہے کہ دُشمن جان وقت کے ساتھ غم گسار بن جاتے ہیں اور غم گسار جانی دُشمن کا روپ دھار لیتے ہیں۔اِس انسانی رویے کے پیچھے جو عامل کار فرما ء ہے وہ یہ کہ انسان کو اپنی حقیقت سے آگاہی نہیں ہو پاتی۔ جو انسان خود کو پہچان لیتا ہے تو اُس کو اپنے اردگرد میں ہونے والی تمام تر حرکات و سکنات کا ادراک رہتا ہے۔اور اپنے سے متعلق افراد کے رویوں کے سلوک کا اعتدال کے ساتھ سامنا کرتا ہے۔ اگر تو انسان کو اپنی اصل کی سمجھ آجاتی ہے تو پھر اُسے یہ ادراک ہو جاتا ہے کہ ہر لمحہ اُسکے پاؤں کے نیچے زندگی کی ساعتیں کم کرتا جارہا ہے اور یہ زندگی دل لگانے والی جگہ نہیں ہے یہ تو بس ایک پڑاو ہے خواہ اِسے صحرا تصور کر لیا جائے اور بے شک اِس زندگی کو نخلستان سمجھا جائے۔انسانی ادراک انسان کو اُس کی معراج پہ پہنچا تا ہے۔ اِسی ادراک کی بنا پر اویس قرنیؓ بنا جاتا ہے۔ بلال حبشیؓ کا اعزاز ملتا ہے اور اِس ادراک کے پیچھے فیضان کارفرما ہوتا ہے۔ اور اِسی لیے تو خالق فرماتا ہے کہ ہدایت اُس کے لیے ہی ہے صرف جسے خالق نوازتا ہے۔امکانات کی دُنیا ہے یہ ،جو جو ہو رہا ہوتا ہے وہ وہ اپنا راستہ بنائے جارہا ہے۔اِس لیے ہونا ہی درحقیقت رد عمل کی ابتداء ہے ۔اِسی سے تعمیر اور تخریب دونوں کا ظہور ہوتا ہے۔اِسی طرح محبت جفا اور وفا کے جذبوں کو اِیسی تمازت سے نوازتی ہے کہ من کی دنیا اور تن کی دنیا ایک جیسی ہوجانے کا رد عمل شروع ہوجاتا ہے۔ہر ہر امکانی صورت کے پیچھے ایسی ہی سرگرمی ہوتی ہے جس سے راستے منفی اور مثبت دونوں میں کسی رُخ پہ گامزن ہو جاتے ہیں۔ روح کی تشنگی کی حدت نے یہ فیصلہ کروانا ہوتا ہے کہ عشق کی آگ میں ڈوبنا ہے یا عقل کی راہوں کا مسافر بننا ہے۔راہی کی منزل کا پتہ اُس کے طور اطوار دئے ر ہے ہوتے ہیں۔جس طرح ماں کو اِس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اُس کا بیٹا اُس کو چاہتا ہے یا نہیں اُس نے تو صرف چاہنا ہوتا ہے یہ سب کچھ تو اُس کی جبلت میں ہے ۔ماں نے محبتیں شمار نہیں کرنا ہوتیں۔ محبتیں شمار تو وہ کرئے جسکو کوئی طمع ہو۔ ماں نے تو بس صرف نوازنا ہے اپنی اولاد کو بیٹا ہو یا بیٹی ہو۔ اچھے اور بُرے کے پیمانے ماں کے نزدیک نہیں ہوتے اُس کا معیار صرف یہ ہی ہوتا ہے کہ اُس کی اولاد ہے۔ خالق بھی نوازتا چلا جاتا ہے اُسے بھی جو خالق کو اپنا رب مانتا ہے اور اُسے بھی جو خالق کو نہیں مانتا۔ خالق کی محبت ماں کی محبت سے ستر گُنا سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ خالق تو ماں اور اولاد دونوں کا خالق ہے۔ خالق اپنی مخلوق کے لیے کیسے منفی کر سکتا ہے وہ تو سراپاِ رحم ہے وہ کریم ہے۔ لیکن خالق کی عطا سے فیض یاب ہونے کے لیے ایسے راستے کا تعین کرنا پڑتا ہے جس کی منزل عشق ہو عقل خالی کسی کام نہیں ہے۔ ہوس کی نمو کی تیزی میں اضافہ کررنے والے اسباب خالق اوربندئے کے درمیان دوری پیدا کر دیتے ہیں۔خالق نے تو کائنات کی تخلیق بھی صر ف اپنے محبوب بندئے نبی پاکﷺ کی خاطر کی۔ خالق نے تواپنا ہونا بھی اپنے بندئے اور محبوب محمد ﷺ کے ظہور کی وجہ سے تخلیق کیا۔ خالق کا خو خالق کہلوانا بھی مخلوق کی وجہ سے ظہور پذیر ہوا۔ خالق اپنے ہی تخلیق کردہ پیغمبر اعظم و آخر نبی پاکﷺ کا محب ہے۔امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کا پنا سرکٹو انا، بلا ل حبشیؓ کا ریت پر جلنا، اویس قرنیؓ کا اپنے دانت مبارک خود اپنے ہاتھو ں سے شھید کرنا۔غازی علم دین،ؒ غازی ممتاز قادری کا پھانسی پہ جھول جانا۔من کی دولت سارئے امکانات کو اپنے تابع لے جاتی ہے جب جب عشق کی لو کی تمازتیں اپنی حدت سے “میں” کو میں نہیں رہنے دیتی سب تو ہی تو ہوجاتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں